دل و دماغ

قسم کلام: اسم مجرد

معنی

١ - عقل و ہوش، علم۔ "جموں کے حالات نے عوام کے دل و دماغ پر اثر کیا اور اس کی لہریں بے چینی کی صورت میں منظرعام پر آنے لگیں۔"      ( ١٩٨٢ء، آتش چنار، ١٤٩ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'دل' کے بعد 'و' بطور حرف عطف کے ساتھ عربی زبان سے مشتق اسم 'دماغ' لگانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٨١٠ء سے "کلیات میر" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - عقل و ہوش، علم۔ "جموں کے حالات نے عوام کے دل و دماغ پر اثر کیا اور اس کی لہریں بے چینی کی صورت میں منظرعام پر آنے لگیں۔"      ( ١٩٨٢ء، آتش چنار، ١٤٩ )

جنس: مذکر